بازار ختم ہو چکا , گاہک نہیں رہا

بازار ختم ہو چکا , گاہک نہیں رہا
بوڑھا صدائیں دیتے مگر تھک نہیں رہا

سر سبز پیڑ آندھیاں جڑ سے اکھاڑ دیں
رستہ کسی پرندے کا جو تک نہیں رہا

کچھ تو فقیر سوچتا دستک سے پیشتر
کھانا کئی دنوں سے یہاں پک نہیں رہا

ہر سمت فاصلوں کی عجب گرد اڑ رہی
برتن سفید کپڑے سے کیوں ڈھک نہیں رہا

ویران اک سڑک پہ ہوں بیٹھا میں شام سے
وحشت میں یاد راستہ گھر تک نہیں رہا

میری جبیں کو چوم کے سینے لگائے گا
جس دن مری وفا پہ اسے شک نہیں رہا

ارشاد اس مکان میں رہتا تھا جو مکیں
مدت ہوئی , اٹھائیے دستک, نہیں رہا

ارشاد نیازی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے