درد ہوتا ہے تو ہاتھوں میں اٹھا لیتا ہے

درد ہوتا ہے تو ہاتھوں میں اٹھا لیتا ہے
میری آنکھوں سے وہ اشکوں کو چرا لیتا ہے

اس کے مقصد کو سمجھ، اس کی عبارت پہ نہ جا
عشق تو نار کو گلزار بنا لیتا ہے

یہ ادا اس کی مجھے دور نہ ہونے دے گی
روٹھ جاتا ہوں تو سینے سے لگا لیتا ہے

بات سن لے، تو مری بات سمجھ جائے گا
بات سنتا ہی نہیں بات بنا لیتا ہے

یہ جو غربت میں اداسی کا سبب ہے, مت پوچھ
مجھ سے چھوٹا بھی مجھے چار سنا لیتا ہے

بات کردار کی کرتا ہی نہیں ہے کوئی
لوگ کہتے ہیں بتا کتنا کما لیتا ہے

میرے پرکھوں کا لگایا ہوا یہ پیڑ منیر
میرے بچوں کو بھی سائے میں بٹھا لیتا ہے

منیر انجم

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان