کیوں گفتگو میں لہجہ_تر لگ نہیں رہا

کیوں گفتگو میں لہجہ_تر لگ نہیں رہا
باتوں میں تیری آج اثر لگ نہیں رہا

دو چار میل میں تری جانب چلوں مگر
دو چار میل کا یہ سفر لگ نہیں رہا

خون_جگر پلا دیا اُس کو مگر ابھی
جیسا میں چاہتا ہوں شجر لگ نہیں رہا

جب سے مکین_قلب نے چھوڑا ہے اپنا گھر
دل مثل_ریگ زار ہے گھر لگ نہیں رہا

میں خوبرو جوان تھا یہ مانئیے جناب
تصویر دیکھ لیجئے گر لگ نہیں رہا

تیرے بغیر شہر میں ہر ایک سے منیر
میں دل لگا رہا ہوں مگر لگ نہیں رہا

منیر انجم منیر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

1 تبصرہ

عمر علی عمر دسمبر 5, 2021 - 5:49 شام
بہت جیو یارا اللہ پاک مزید کامیابیوں سے نوازے تم کو
Add Comment