زلف_جاناں کو سنواریں گے چلے جائیں گے

زلف_جاناں کو سنواریں گے چلے جائیں گے
روز و شب یونہی گزاریں گے چلے جائیں گے

کون سمجھے گا مرے کرب کی گہرائی کو
لوگ پنکھے سے اتاریں گے چلے جائیں گے

آپ کے حسن کو ہم ماند نہ پڑنے دیں گے
آپ کا حسن نکھاریں گے چلے جائیں گے

کپکپاہٹ مرے ہونٹوں کو لگى رہنی ہے
آپ آئیں گے پکاریں گے چلے جائیں گے

ایک دو دوست ہیں اور دوست بھی ایسے انجم
مجھ کو مٹی میں اتاریں گے چلے جائیں گے

منیر انجم منیر

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل