دوست کے لیے ایک دُعا

تری کامرانیوں پہ مرا دل بھی مسکرائے
اے مرے حسین ساتھی! تجھے کوئی غم نہ آئے
کبھی راستہ نہ بھولیں ترے گھر کا یہ بہاریں
تیری منزلوں کا جگنو سدا یونہی جگمگائے
کبھی آنسوؤں کی شبنم تری آنکھ پر نہ اُترے
نہ کوئی کرن سحر کی تمہیں بے قرار پائے

شازیہ اکبر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا