کرب کی سُولی

کرب کی سُولی

دیکھو!
دیکھو زیست کے سارے لمحے
کرب کی سولی پر لٹکے ہیں
اور اس دار کے چاروں جانب
کچھ جانے پہچانے سپنے
ماتم کی پوشاک پہن کر
مایوسی سے سر کو جھکائے
(جیسے اپنا آپ گنوائے)
جانے کیوں چپ چاپ
کھڑے ہیں

شازیہ اکبر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا