محبت زندہ رہتی ہے

محبت زندہ رہتی ہے

محبت زندہ رہتی ہے
اگر رخ موڑ بھی جائے
دوام اس کو جو حاصل ہے
وہ جز اس کے کہاں ہو گا؟
یہ ٹوٹے آشیانوں میں
یہ تنہائی کی شاموں میں
دلوں کے سرد خانوں میں
نگہ کے آستانوں میں
زمینوں آسمانوں میں
یہ صدیوں اور زمانوں میں
یوں چادر اوڑھ کر چپ کی
جدائی کا زہر پی کر
محبت زندہ رہتی ہے
یہ سمجھوتوں کو پیتی ہے
یہ سُولی پر بھی جیتی ہے
یہ تیری میری آنکھوں میں
یہ خوشبوؤں میں سانسوں میں
یہ گزرے کل کی یادوں میں
یہ باتوں اور گھاتوں میں
جنوں کی سرد راتوں میں
دلوں کے شہر میں تنہا
یہ اوجھل سب نگاہوں سے
سدا بڑھتی پنپتی ہے
محبت زندہ رہتی ہے
محبت زندہ رہتی ہے

شازیہ اکبر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان