دِلاسا

میرے محبوب ! یوں دل نہ میلا کرو
اِس طرح سے نہ دریا کو دیکھا کرو
تیرے بچے تِری ماں سلامت رہی
تیری بیٹی تِری جاں سلامت رہی
مال ڈنگر بچا ہے ، غنیمت رہی
فصل اُجڑی ، یہ تنگی بھی قسمت رہی
گھر کے سامان کی مجھ کو پروا نہیں
اِن مکانوں کے بارے میں سوچا نہیں
یہ الگ بات گلشن ویرانہ ہوا
اپنا پُرسانِ دل اک زمانہ ہوا
یہ قیامت کا لمحہ گزر جائے گا
میرے محبوب ! پانی اُتر جائے گا
ہم سے بچھڑا نہیں کوئی بھی میری جاں
جلد ہی ہم بنا لیں گے اپنا مکاں
اپنے ہاتھوں سے کھانا پکاؤں گی میں
تم کماؤ گے ، گھر کو سجاؤں گی میں

 

ناصر ملک

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے