ناصر بزمِ جاناں سے اَب جانا ہو گا

ناصر بزمِ جاناں سے اَب جانا ہو گا
مشکل ہے لیکن دل کو سمجھانا ہو گا

اَب کے روشن کرنوں کا بھی ماتم کر کے
شب کی اُلجھی زُلفوں کو سلجھانا ہو گا

ڈھلتے سورج کی تنہائی کا اِک نغمہ
چشمِ تر کو بھیگے سُر میں گانا ہو گا

دشتِ وحشت نے بہلایا ہو گا اُس کو
جس نے اپنے دل کا کہنا مانا ہو گا

اپنے لرزیدہ سائے کا دعویٰ بھی سن
جانے والے! تجھ کو واپس آنا ہو گا

ناصر ملک

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا