دل نے کارِ ہنر نہیں چھوڑا

دل نے کارِ ہنر نہیں چھوڑا
اور تجھے سربسر نہیں چھوڑا

انتہائی تھی بے دلی جب کہ
مسکرانا مگر نہیں چھوڑا

کوئی سمجھائے یہ اُسے جاکر
گھر ہی چھوڑا ہے در نہیں چھوڑا

میں تجھے چھوڑ بھی تو سکتا تھا
دل میں تیرے یہ ڈر نہیں چھوڑا

بن مِرے کس طرح جیے گا وہ
بس یہی سوچ کر نہیں چھوڑا

اب اُسے خاک بھول پاوں گا
وہ جسے عمر بھر نہیں چھوڑا

مجھ کو دفتر ہی چھوڑنا پڑتا
اس لیے تجھ کو گھر نہیں چھوڑا

چھوڑ سکتا تھا سب ہی کچھ یوسف
قصہ المختصر نہیں چھوڑا

یوسف عابدی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے