ہمیں تُو ہی ملا ہے بس ہمارا

ہمیں تُو ہی ملا ہے بس ہمارا
تجھی سے سلسلہ ہے بس ہمارا

ہمارا مسئلہ ہے بس محبت
محبت مسئلہ ہے بس ہمارا

یہ راہِ عشق کی لمبی مسافت
یہی تو راستہ ہے بس ہمارا

اُسے تسیکن ملتی ہے اِسی سے
وہ چہرہ دیکھتا ہے بس ہمارا

کبھی غیروں کی باتوں میں نہ آنا
تجھے یہ مشورہ ہے بس ہمارا

اُسی کا آسرا ہے دل کو یوسف
وہی تو آسرا ہے بس ہمارا

یوسف عابدی

Related posts

شہباز خواجہ شاعری

ماتم

ہجر