ماتم

اخبار کے صفحے الٹتے ہوئے
ٹی وی چینلز بدلتے ہوئے
خون کی ایک لکیر
صفحہ در صفحہ
چینل در چینل بہتی ہوئی
آنکھ کی پتلیوں میں جم جاتی ہے
ہاتھ میں پکڑے ہوئے نوالے بھی سرخ دکھائی دیتے ہیں
بے بسی کی تہوں سے سر اُٹھاتی بغاوت کہتی ہے
کہ لوح محفوظ کے سارے سُرخ صفحات مٹا دیں
اور
آسمان کا کوئی بخیہ اُدھیڑ کر
اُس جانب دیکھیں
کوئی صفِ ماتم ہے کہ نہیں!!!

شہباز خواجہ

Related posts

امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی