دل کی دریافت ہے دراصل ولایت کا ہنر

دل کی دریافت ہے دراصل ولایت کا ہنر
آسماں والے نے سیکھا ہے مری دوستی سے

دیکھنا چاہتا ہوں جاتی کہاں ہے خوشبو
کون مل سکتا ہے اس پھول کی جاسوسی سے

آخرِکار مجھے آنا پڑا اپنی طرف
آسمانوں کی طرف دیکھ کے مایوسی سے

سوچتے سوچتے اک باغ میں جا پہنچے ہم
دیکھتے دیکھتے اک پھول گرا ٹوکری سے

فیضان ہاشمی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے