نم نے نہیں پہنچنا نظر نے پہنچنا تھا

نم نے نہیں پہنچنا نظر نے پہنچنا تھا
اونچی تھی وہ منڈیر شجر نے پہنچنا تھا

ہر خواب ارتقا کے سفر میں شریک ہے
مجھ تک کسی کے زاد سفر نے پہنچنا تھا

اُڑتی رہے گی خاک کسی آسماں کی سمت
مٹی کی تہہ میں دیدہ تر نے پہنچنا تھا

تجسیم ہو تے ہوتے بگڑ جاتا ہےخیال
سر تک پرندے نے نہیں پر نے پہنچنا تھا

ہر بار ایک خواب میں جاتے تھے ہم جہاں
اِس رات ایک راہ گزر نے پہنچنا تھا

فیضان ہاشمی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان