دل دکھوں کے حصار میں آیا

دل دکھوں کے حصار میں آیا

جبر کب اختیار میں آیا

دے اسے بھی فروغ حسن کی بھیک

دل بھی لگ کر قطار میں آیا

خوب ہے یہ اکائی بھی لیکن

جو مزہ انتشار میں آیا

دیکھتا ہے نہ پوچھنا ہے کوئی

اجنبی کس دیار میں آیا

یہ تو جانیں مقدروں والے

کون کس کے مدار میں آیا

شاخ پر ایک پھول بھی تابشؔ

مجھ سے ملنے بہار میں آیا

عباس تابش

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان