دیکھ کر صبح کی گھڑی نزدیک

دیکھ کر صبح کی گھڑی نزدیک
اور بھی رات ہو گئی تاریک

انقلاب چمن معاذاﷲ
پھول کانٹوں سے مانگتے ہیں بھیک

اے شب غم ترا خیال ہے کیا
سن رہے ہیں کہ ہے سحر نزدیک

ساتھ آؤ کہ لوگ کہتے ہیں
راستہ زندگی کا ہے تاریک

دل کا دامن سمیٹ لے باقیؔ
کون دے گا تجھے حیات کی بھیک

باقی صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے