ٹھہرو ٹھہرو قافلے والو

ٹھہرو ٹھہرو قافلے والو
دل بیٹھا جاتاہے سنبھالو

اور ستم کہتے ہیں کس کو
تم ہی کہہ دو دیکھنے والو

کچھ دن اور نہ ان سے الجھو
کچھ دن اور قضا کو ٹالو

افسانہ بھی سنتے جاؤ
دل کی بات بتانے والو

دنیا دیکھ نہ لے اے باقیؔ
دل میں امیدوں کو چھپا لو

باقی صدیقی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان