دیوار دِکھ سکے نہ دریچہ دکھائی دے

دیوار دِکھ سکے نہ دریچہ دکھائی دے
ہاتھوں کی اِن لکیروں میں صحرا دکھائی دے
۔
ہم یوں لپک پڑے تھے تری سمت جس طرح
اک تشنہ لب پرندے کو دریا دکھائی دے
۔
دیکھا نہیں کسی نے مری آنکھ سے تجھے
ورنہ تو ساری دنیا کو اچھا دکھائی دے
۔
مٹی کے سادہ رنگ پہ کِھلتے ہیں جیسے پھول
ہر رنگ تجھ پہ اس طرح کِھلتا دکھای دے
۔
ہر سمت آئینے کی طرح ہو گئی علی
ہر سمت اب مجھے مرا چہرہ دکھائی دے

علی کوثر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا