بچھڑ جانا مگر کچھ اس ادا سے

بچھڑ جانا مگر کچھ اس ادا سے
میرا ایمان اٹھ جائے وفا سے

ہوائیں مضمحل کیوں لگ رہی ہیں
پرندے لگ رہے ہیں کیوں خفا سے

ہمیں بھی طور کا رستہ دکھاؤ
ہمیں بھی پوچھنا ہے کچھ خدا سے

ہمارا دل نہیں آتش کدہ ہے
بھڑک اٹھتا ہے ہلکی سی ہوا سے

سسکتے اور بلکتے مر گئے ہیں
ہمارے خواب رہ رہ کر پیاسے

علی کوثر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا