دسترس نہیں جس پر وہ جہاں خریدا ہے

دسترس نہیں جس پر وہ جہاں خریدا ہے
بیچ کر زمیں اپنی آسماں خریدا ہے

مقصد ایک جیسا ہے، بات ایک جیسی ہے
یا یقین بیچا ہے یا گماں خریدا ہے

دیکھیے کہ ہوتی ہے کب یہ آرزو پوری
جو خریدنا چاہا وہ کہاں خریدا ہے

جس میں دفن ہے میری آرزوؤں کی میّت
آج میرے بیٹے نے وہ مکاں خریدا ہے

کل کی میزبانی میں تھا خلوصِ دل شامل
آج کا یہ عالم ہے، میزباں خریدا ہے

سچ کہا ولیؔ تم نے بیچ کر اَنا اپنی
ہم نوا خریدا ہے، ہم زباں خریدا ہے

 

ولی اللّٰہ ولی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے