رونما جو بھی ہوا ہے وہ فنا ہو جائے گا

رونما جو بھی ہوا ہے وہ فنا ہو جائے گا
اپنا سازِ دل بھی اِک دن بے صدا ہو جائے گا

میرے دل کا آپ سے جب رابطہ ہو جائے گا
تیرگی چھٹ جائے گی یہ آئینہ ہو جائے گا

میں نے سوچا بھی نہ تھا ایسا خیال و خواب میں
پھول جیسا آدمی پتھّر نُما ہو جائے گا

جان کر یہ وہ ستمگر بھی بہت محتاط ہے
درد حد سے بڑھ گیا تو پھر دوا ہو جائے گا

مطمئن اپنے لہو کی تربیت سے ہوں ولیؔ
میرا بیٹا ایک دن میرا عَصا ہو جائے گا

 

ولی اللہ ولیؔ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی