وہ جو ملتا ہے کچھ فائدہ دیکھ کر

وہ جو ملتا ہے کچھ فائدہ دیکھ کر
مجھ کو اپنا کہے بھی تو کیا دیکھ کر

بعد مرنے کے آنکھیں کھلی رہ گئیں
تاکہ آئے کوئی دَر کھلا دیکھ کر

رُخ سے پردہ ہٹا کر یہ اُس نے کہا
لوگ پاگل ہوئے جانے کیا دیکھ کر

تاکہ اُس کی فضیلت مسلم رہے
چاند چھُپتا ہے کالی گھٹا دیکھ کر

تجھ کو معلوم ہے اے مسیحا مرے
درد بڑھتا ہے اکثر دوا دیکھ کر

وہ جو رکھتے ہیں منزل پہ اپنی نظر
راہ چلتے نہیں فاصلہ دیکھ کر

ہے ستم کیا؟ ستم کی علامت ہے کیا؟
میں نے سمجھا ہے چہرہ ترا دیکھ کر

کیا گزرتی ہے آنکھوں پہ مت پوچھیے
اپنے خوابوں کو لٹتا ہوا دیکھ کر

آئینہ بن گئے ہیں یہ دیر و حرم
در پہ تیرے مِرا سر جھُکا دیکھ کر

دیکھ کر مجھ کو ہنستی ہے دنیا ولیؔ
جیسے پاگل ہنسے آئینہ دیکھ کر

ولی اللہ ولیؔ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے