شرم کی کیا بات ہے، شرمائیں کیوں ؟

شرم کی کیا بات ہے، شرمائیں کیوں ؟
ہم گنہگارِ وفا پچھتائیں کیوں َ؟

موت ہے دراصل پیغامِ حیات
موت سے اہلِ جنوں گھبرائیں کیوں ؟

دل کے کیف و کم سے جو ہیں آشنا
نفس کی چالوں سے دھوکا کھائیں کیوں ؟

یہ نہیں کہ اُٹھ کے ہم جائیں کہاں
یہ کے تیرے در سے اٹھ کے جائیں کیوں ؟

آئینے کی خود ضرورت ہے ہمیں
آئینہ اوروں کو ہم دکھلائیں کیوں ؟

ہم ہیں اپنی ذات میں خود انجمن
ہم کسی کی انجمن میں جائیں کیوں ؟

پاؤں سے گرداب لپٹی ہے ولیؔ
گردشِ ایَّام سے گھبرائیں کیوں

ولی اللّٰہ ولی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل