درد دل کو مرے نمو کرکے

درد دل کو مرے نمو کرکے
دل کو میرے لہو لہو کرکے

کیا ملا تجھ کو بول یار مرے
درد سے مجھ کو روبرو کرکے

آئیے قہقے لگاتے ہیں
آج کی شب غموں کو چھو کرکے

اس نے دل کو ہمارے جیت لیا
میٹھی میٹھی سی گفتگو کر کے

یہ اندھیرے مٹائیے غضنی
روشنی گھر میں چارسو کرکے

غضنفر غضنی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا