چیونٹیاں

چیونٹیاں

سرمئی رات میں

اپنے خوابوں کو دیوار پر مار کر

پہلے توڑا

پھر اس کی سبھی کرچیاں

اپنے دامن میں بھر کے

سمندر کی موجوں میں ڈال آئے ہم

تھوڑی ہلچل ہوئی

دائرے دائرے سے بکھرنے لگے

نقش چھوڑے بنا

خوشبوؤں کی طرح

خواہشیں ڈوب کر ایسے مرتیں رہیں

جیسے مرتی ہیں پیروں تلے چیونٹیاں

نیل احمد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے