آگہی

آگہی

مری پرواز اونچی ہے

پہاڑوں پر

چٹانوں پر

کہیں تو آسمانوں پر

فضائے بیکراں کی وسعتوں میں ہے مری منزل

بہت ہی ماورا ہیں اس جہاں سے ذہن کے ہالے

زمانوں پر لگا رکھے ہیں میں نے سوچ کے تالے

حدود لا مکاں بھی گونجتی ہے میرے نالوں سے

کہ میں نے پا لیا ادراک کو سارے حوالوں سے

نیل احمد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے