چلو اک کام کرتے ہیں

چلو اک کام کرتے ہیں
اس جاتی رت کی کسی شام
سنگ چائے پینے کا
کوئی اہتمام کرتے ہیں
شاید کہ پھر نہ پلٹے
یہ حسیں رت
شاید کہ پھر نہ لوٹیں
یہ حسین پل
باقی رہیں نہ شاید
خوشگواریاں بھی کل
چلو ہم خوشگوار رت میں
کچھ لمحے جی لیتے ہیں
ٓآﺅ جاناں کسی شام
اکٹھے۔۔۔ چائے پی لیتے ہیں

طارق اقبال حاوی

Related posts

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

ماں : رحمتوں کا سائباں

2 تبصرے

طارق اقبال حاوی اپریل 7, 2020 - 5:14 شام
شکرگزار ہوں سلام اردو انتظامیہ کا جنہوں نے میری نظم اپنی ویب سائیٹ پر پوسٹ فرمائی اور مجھے عزت بخشی۔ اللہ پاک ادارے کو مزید ترقی سے نوازے۔ آمین (طارق اقبال ؔحاوی)
سائٹ ایڈمن اپریل 9, 2020 - 7:34 صبح
آپ کا خیر مقدم ہے
Add Comment