یونہی مل بیٹھنے کا کوئی بہانہ نکلے

یونہی مل بیٹھنے کا کوئی بہانہ نکلے
بات سے بات فسانے سے فسانہ نکلے

پھر چلے ذکر کسی زخم کے چِھل جانے کا
پھر کوئی درد کوئی خواب پرانا نکلے

پھر کوئی یاد کوئی ساز اُٹھا لے آئے
پھر کسی ساز کے پردے سے ترانہ نکلے

یہ بھی ممکن ہے کہ صحراؤں میں گم ہو جائیں
یہ بھی ممکن ہے خرابوں سے خزانہ نکلے

آؤ ڈھونڈیں تو سہی اہلِ وفا کی بستی
کیا خبر پھر کوئی گم گشتہ ٹھکانہ نکلے

یار ایسی بھی نہ کر بات کہ دونوں رو دیں
یہ تعلق بھی فقط رسمِ زمانہ نکلے

یہ بھی ہے اب نہ اٹھے نغمۂ زنجیر فرازؔ
یہ بھی ہے ہم سا کوئی اور دِوانہ نکلے

احمد فراز

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا