چال ایسی غم زمانہ چلا

چال ایسی غم زمانہ چلا
پھر نہ آگے ترا فسانہ چلا

منزل زیست بے سراغ رہی
کوئی جب تک برہنہ پا نہ چلا

دل ملیں تو قدم بھی ملتے ہیں
ساتھ ورنہ کوئی چلا نہ چلا

کس طرف سے تری صدا آئی
چھوڑ کر دل ہر اک ٹھکانہ چلا

کیوں گریزاں ہیں منزلیں ہم سے
نہ چلے ہم کہ رہنما نہ چلا

آج کیسی ہوا چلی باقیؔ
ایک جھونکے میں آشیانہ چلا

باقی صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے