دل کو جب تیری رہگزر جانا

دل کو جب تیری رہگزر جانا
دور کا غم قریب تر جانا

بے نیازی سی بے نیازی تھی
اپنے گھر کو نہ اپنا گھر جانا

لے نہ ڈوبے کہیں یہ بے خبری
ہر خبر کو تری خبر جانا

اک نئے غم کا پیش خیمہ ہے
بے سبب زخم دل کا بھر جانا

تجھ سے آتی ہے بوئے ہمدردی
جانے والے ذرا ٹھہر جانا

ابتدائے سفر کا شوق نہ پوچھ
ہر مسافر کو ہم سفر جانا

زندگی غم کا نام ہے باقیؔ
ہم نے اب قصہ مختصر جانا

باقی صدیقی

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں