چاہے لوگ نئے ہیں اور زمانے بھی

چاہے لوگ نئے ہیں اور زمانے بھی
آتےہیں کچھ گھاؤ یاد پرانے بھی

کبھی کبھی اس دانائی کے چکرمیں
ھوجاتےہیں لوگ یہاں دیوانے بھی

یہ جودل کی دنیا ھے اس دنیامیں
جنگل بھی ہیں صحرابھی ویرانے بھی

جانے کیا کہتے ہیں ایسے لوگوں کو
اپنے بھی جو لگتے ہیں بیگانے بھی

فرانسس سائل

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے