خوش ہو رہا ہوں اپنی تب و تاب دیکھ کر

خوش ہو رہا ہوں اپنی تب و تاب دیکھ کر
گھر سے چلا ہوں دن کے نئے خواب دیکھ کر

ہاتھوں میں آنسووں کو اکٹھا کروں گا میں
کوئی تو چاند اترے گا تالاب دیکھ کر

روشن رہے گی آج بھی یہ رات دیر تک
آیا ہوں اک منڈیر پہ مہتاب دیکھ کر

اب ڈھونڈھنے پہ بھی کوئی ملتا نہیں مجھے
آیا تھا میں تو شہر میں احباب دیکھ کر

کونجوں کی ایک ڈار فلک سے اتر گئی
دریا کا سارا حُسن سرِ آب دیکھ کر

خالد جو اپنے ظرف میں دریا مزاج تھے
وہ ڈر گئے ہیں ایک ہی سیلاب دیکھ کر

خالد سجاد

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا