چاک کر سینہ دل میں پھینک دیا

چاک کر سینہ دل میں پھینک دیا
کھینچے ایذا ہمیشہ کس کی بلا

تم کو جیتا رکھے خدا اے بتاں
مر گئے ہم تو کرتے کرتے وفا

اٹھ گیا میر وہ جو بالیں سے
پھر مری جان مجھ میں کچھ نہ رہا

میر تقی میر

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی