چاک کر سینہ دل میں پھینک دیا

چاک کر سینہ دل میں پھینک دیا
کھینچے ایذا ہمیشہ کس کی بلا

تم کو جیتا رکھے خدا اے بتاں
مر گئے ہم تو کرتے کرتے وفا

اٹھ گیا میر وہ جو بالیں سے
پھر مری جان مجھ میں کچھ نہ رہا

میر تقی میر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان