دل گیا مفت اور دکھ پایا

دل گیا مفت اور دکھ پایا
ہوکے عاشق بہت میں پچھتایا

مر گئے پر بھی سنگ سار کیا
نخل ماتم مرا یہ پھل لایا

صحن میں میرے اے گل مہتاب
کیوں شگوفہ تو کھلنے کا لایا

یہ شب ہجر ہے کھڑی نہ رہے
ہو سفیدی کا جس جگہ سایا

جب سے بے خود ہوا ہوں اس کو دیکھ
آپ میں میر پھر نہیں آیا

میر تقی میر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا