بچھی رہتی ہے سارا سال جس پر برف کی چادر

بچھی رہتی ہے سارا سال جس پر برف کی چادر
اُسی کہسار سے دریاوں کے دھارے نکلتے ہیں

بھری دوپہر میں جزبوں کی تو نے شام کر ڈالی
خبر نہ تھی کہ اس بستی میں سورج یوں بھی ڈھلتے ہیں

سنو! یہ ڈوبتا سورج ہمیں پیغام دیتا ہے
چلو اب شام ڈھلتی ہے چلو اب گھر کو چلتے ہیں

اجالا روز ہوتا ہے دلِ برباد میں شاھد
منڈیروں پر تری یادوں کے دیپک اب بھی جلتے ہیں

افتخار شاہد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے