بیٹیاں

بیٹی کے نام

جب بھی کسی کے گھر میں یہ آتی ہیں بیٹیاں
رحمت خدا کی ساتھ ہی لاتی ہیں بیٹیاں

دکھ دیکھتی ہیں ماؤں کے چہرے پہ جس گھڑی
لمحے میں ٹوٹ ٹوٹ سی جاتی ہیں بیٹیاں

دل چور چور ہوتے ہیں غربت کو دیکھ کر
روتے ہوئے جو باپ کو پاتی ہیں بیٹیاں

لے جاتی ہیں وہ ساتھ ہی آنگن کی رونقیں
بابل کے گھر سے جس گھڑی جاتی ہیں بیٹیاں

دیوار و در ہیں کانپتے پہلی ہی کُوک پر
جب باپ کے جنازے پہ آتی ہیں بیٹیاں

محمد رضا نقشبندی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان