بے چہرگی سے چہرہ چھپا کر کھڑا رہا

بے چہرگی سے چہرہ چھپا کر کھڑا رہا
میں آئینے سے آنکھ بچا کر کھڑا رہا

وہ خوف تھا کہ آنکھ اٹھائی نہ جا سکی
سینے میں کوئی حشر اٹھا کر کھڑا رہا

دریا نے میرےکشتوں کے پشتے لگا دیے
میں ساحلوں پہ خواب سجا کر کھڑا رہا

ہر صبحِ نو خراج ہے اس شخص کے لیے
جو بام پر چراغ جلا کر کھڑا رہا

پاؤں زمیں کی تہہ میں اترتے چلے گئے
میں آسمان سر پہ اٹھا کر کھڑا رہا

کشتی بنائی جائے گی اب اس کو کاٹ کر
جو پیڑ مجھ سے ٹیک لگا کر کھڑا رہا

کھڑکی میں جس چراغ کا پہلا ظہور تھا
ہر سایہ اس کو آڑ بنا کر کھڑا رہا

دیوار پر لگی ہوئی تصویر رو پڑی
جب سایہ اس کو خواب سنا کر کھڑا رہا

علی صابر رضوی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان