بدن کو تیرگی میں بو رہا ہوں

بدن کو تیرگی میں بو رہا ہوں
یقیناً خواب ہے میں سو رہا ہوں

محبت پیش ہونے جا رہی ہے
میں اپنی ہر گواہی کھو رہا ہوں

تجھے کیا علم آنکھیں چیز کیا ہیں
سہولت ہے تبھی تو رو رہا ہوں

یہ صحرا آنکھ ًملنے سے دِکھا ہے
نہ یہ سمجھو کہ منظر دھو رہا ہوں

مرے آنسو سمندر میں گریں گے
میں دریا کے کنارے رو رہا ہوں

عمران سیفی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے