خدائی کا نہیں پوچھا گیا کہ ڈھب کیا ہے

خدائی کا نہیں پوچھا گیا کہ ڈھب کیا ہے
سوال غور سے پڑھیےلکھا ہے رب کیا ہے

سراب دھوپ سے بنتے ہیں شام سے منظر
چراغ بیچنے والے سے پوچھ شب کیا ہے

پکارتا ہے کوئی پھر نئے دریچوں سے
میں گاؤں چھوڑ تو آیا ہوں دوست اب کیا ہے

یہ تو نے کمرے کا کیا حال بنا رکھا ہے
یہ عشق رنج یہ وحشت سبو یہ سب کیا ہے

اب آنکھ اشک سے بیزار ہے تو کیا کیجے
کہ اس بہاؤ کا کیوں جانیئے سبب کیا ہے

عمران سیفی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی