بدلتے موسم

بدلتے موسم
بدلتے لہجے
ستم جو ڈھاتےہیں
حساس دل پھر
کہاں سہہ پاتے ہیں
پھول کی پتیاں
جو اک بار بکھر جاتی ہیں
سحابِ بہار سے
کہاں پھر وہ نکھر پاتی ہیں
صبر کا پیمانہ
جو چھلک جاتا ھے
ہنگام اس کا پھر
بامِ فلک جاتا ھے
محبت ،احساس اور مروت
صرف قلم کے فسانے ہیں
ورنہ تو ہر جا
دولت کےنذرانے ہیں
ستم ڈھانا عادت ھے
زمانے کی
اور
ستم سہہ کر عادت ھے اپنی
مسکرانےکی

اسماء بتول
22 جون 2025
8 بجے صبح

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی