دل کی بستی میں اجالا

دل کی بستی میں اجالا نہیں ہونے والا
میری راتوں کا خسارا نہیں ہونے والا

میں نے الفت میں منافع کو نہیں سوچا ہے
میرا نقصان زیادہ نہیں ہونے والا

اس سے کہنا کہ مرا ساتھ نبھائے آ کر
میرا یادوں سے گزارا نہیں ہونے والا

وہ ہمارا ہے ہمارا ہے ہمارا ہے فقط
باوجود اس کے ہمارا نہیں ہونے والا

آج اٹھا ہے مداری کا جنازہ لوگو
کل سے بستی میں تماشہ نہیں ہونے والا

ہمانشی بابرا

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے