اپنی حالت کا مجھے دھیان

اپنی حالت کا مجھے دھیان نہیں ہوتا ہے
عشق سچا ہو تو آسان نہیں ہوتا ہے

تجھ سے مل کر مجھے پہلے سی خوشی ملتی نہیں
تو مجھے دیکھ کے حیران نہیں ہوتا ہے

خیریت پوچھتا ہے صرف دکھاوے کے لیے
وہ مرے حال سے انجان نہیں ہوتا ہے

پہلے سے بڑھ کے محبت ہے مجھے تجھ سے اب
کیوں یقیں تجھ کو مری جان نہیں ہوتا ہے

کب کہا یہ کہ محبت نہیں کرتا ہے تو
تیرے ہونے پہ مجھے مان نہیں ہوتا ہے

ہمانشی بابرا

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے