وہ ہاتھ میرے ہاتھ سے

وہ ہاتھ میرے ہاتھ سے بے حد قریب تھا
پھر بھی میں چھو نہیں سکی میرا نصیب تھا

اب تجھ سے بن گئی تو زمانے سے بن گئی
جب تو رقیب تھا تو زمانہ رقیب تھا

ترک تعلقات پہ آیا نہیں سمجھ
تیرا نصیب تھا کہ یہ میرا نصیب تھا

کچھ وقت میں ہی مجھ سے بہت دور ہو گیا
وہ ایک شخص جو مرے سب سے قریب تھا

آیا ہے خالی ہاتھ وہ بازار عشق سے
یادیں بھی لا نہیں سکا اتنا غریب تھا

ہمانشی بابرا

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے