آسماں کے رنگوں میں رنگ ہے شہابی سا

آسماں کے رنگوں میں رنگ ہے شہابی سا
دھیان میں ہے پھر چہرہ ایک ماہتابی سا
منظروں نے کرنوں کا پیرہن جو پہنا ہے
میں نے اس کا رکھا ہے نام آفتابی سا
تم عجیب قا تل ہو، روح قتل کرتے ہو
داغتے ہو پھر ما تھا چاند کی رکابی سا
کون کہہ گیا ہے مو ت ٹوٹنے سے آتی ہے
گل نے تو بکھر کے باغ کر دیا گلا بی سا
پھر ہوا چلی شاید بھولے بسرے خوابوں کی
دل میں اٹھ رہا ہے کچھ شوق اضطرابی سا
تلخیوں نے پھر شا ید اک سوال دہرایا
گھل رہا ہے ہو نٹوں میں ذائقہ جو ابی سا
حرف پیار کے سارے آ گئے تھے آنکھوں میں
جب لیا تھا ہاتھوں میں چہرہ وہ کتابی سا
بوند بوند ہوتی ہے رنگ و نور کی برکھا
جب بھی موسم آیا ہے نیناں میں شرابی سا

فرزانہ نیناں

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان