جب بھی خوشبو سا مرے دل نے بکھرنا چاہا

جب بھی خوشبو سا مرے دل نے بکھرنا چاہا
رنگ پھولوں نے مرے خون میں بھرنا چاہا
راہ میں سوچ کی دیوار اٹھا دی اس نے
الجھنوں سے جو کبھی میں نے گزرنا چاہا
میری تقدیر سے وہ بابِ اثر بند ملا
جب دعاؤں کے پرندوں نے اترنا چاہا
چل دیا ساتھ ہی میرے تری یادوں کا ہجوم
راہ سے زیست کی تنہا جو گزرنا چاہا
جال پھیلا دئے کیا کیا مرے اندیشوں نے
جب بھی لمحات کی موجوں میں اترنا چاہا
بھیڑ پنگھٹ پہ چلی ساتھ مرے خوابوں کی
پیاسے نیناں کو وہاں جا کے جو بھرنا چاہا

فرزانہ نیناں

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے