امن

مجھے اک گھر بنانا ہے
جہاں زیتون کی شاخوں پہ پنچھی چہچہاتے ہیں
خدائے لم یزل کی عظمتوں کے گیت گاتے ھیں
مجھے اک گھر بنانا ہے
جہاں مٹی میں گندم کی جگہ ہم بھوک نہ بوئیں
جہاں سورج کی کرنیں جبر کے بارود میں سانسوں کو نہ کھوئیں
مجھے اک گھر بنانا ہے

منزہ امور گوئیندی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے