عجیب ڈھنگ سے میں نے یہاں گزارا کیا

عجیب ڈھنگ سے میں نے یہاں گزارا کیا

کہ دل کو برف کیا ذہن کو شرارا کیا

مزاج درد کو سب لفظ بھی قبول نہ تھے

کسی کسی کو ترے غم کا استعارہ کیا

پھر اس کے اشک بھی اس کو ادا نہ کر پائے

وہ دکھ جو اس کے تبسم نے آشکارا کیا

کہ جیسے آنکھ کے لگتے ہی کھل گئیں آنکھیں

نگاہ جاں نے بہت دور تک نظارہ کیا

ہمیں بھی دیکھ کہ تجسیم نو سے گزرے ہیں

بدن کو شیشہ کیا، دل کو سنگ پارہ کیا

عجیب مزاج تھا تنہائی آشنا کہ سعودؔ

خود اپنا ساتھ بھی مشکل سے ہی گوارا کیا

سعود عثمانی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے