عجب روِش سے اُنھیں ہم گلے لگا کے ہنسے

عجب روِش سے اُنھیں ہم گلے لگا کے ہنسے
کہ گُل تمام گلِستاں میں کِھلکِھلا کے ہنسے

جنھیں ہے شرم وحیا اِس ہنسی پہ روتے ہیں
وہ بے حیا ہے ہنسی پر جو بے حیا کے ہنسے

غم والم مِرا اُن کی خوشی کا باعث ہے
کہ جب ہنسے وہ، مجھے خُوب سا رُلا کے ہنسے

نِکالا چارہ گروں نے جو ذکر مرہم کا
تو خُوب زخمِ جِگر میرے لہلہا کے ہنسے

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے