زندگی اک پیرہ زن !

زندگی اک پیرہ زن !

زندگی اک پیرہ زن!
جمع کرتی ھے گلی کوچوں میں روز و شب پرانی دھجیاں!
تیز، غم انگیز، دیوانہ ہنسی سے خندہ زن
بال بکھرے، دانت میلے، پیرھن
دھجیوں کا ایک سونا اور نا پیدا کراں، تاریک بن!

لو ھوا کے ایک جھونکے سے اڑی ھیں ناگہاں
ھاتھ سے اس کے پرانے کاغذوں کی بالیاں
اور وہ آپے سے باھر ھو گئی
اس کی حالت اور ابتر ھو گئی
سہہ سکے گا کون یہ گہرا زیاں

اب ھوا سے ہار تھک کر جھک گئی ھے پیرہ زن
جھک گئی ھے پاؤں پر، جیسے دفینہ ھو وہاں!
زندگی، تو اپنے ماضی کے کنوئیں میں جھانک کر کیا پائے گی

اس پرانے اور زھریلی ھواؤں سے بھرے، سونے کنویں میں
جھانک کر اس کی خبر کیا لائے گی
اس کی تہہ میں سنگریزوں کے سوا کچھ بھی نہیں
جز صدا کچھ بھی نہیں!

ن م راشد

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے