احوال

احوال

چپکے چپکے دل کے اندر
درد کا دریا بہتا ہے
موج موج میں اس دریا کی
کیسی نامانوس زباں میں
کوئی ہمدم ، کوئی ساتھی
دکھ کے قصے کہتا ہے
کبھی کبھی تو اس کی لہریں
بے قابو سی ہو کر مجھ سے
عجب سوال اُٹھاتی ہیں
چٹکی سی اِک لے کر دِل میں
نئی کسک دے جاتی ہیں

شازیہ اکبر

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا